تازہ ترین
لوڈ ہو رہا ہے۔۔۔۔
جمعرات، 20 مئی، 2021

 ترمیم شدہ ۔۔!! لیکن پھر بھی مضبوط اعصاب والے ہی پڑھیں۔۔!!

پہلا منظر۔۔۔پس آئینہ

دو دن سے مظاہرہ چل رہا ہے،انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں پاکستان میں سزائے موت کو ختم کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں،میڈیا کی مکمل کوریج ہے،چیخ چیخ کر سزائے موت کو غیر انسانی کہا جا رہا ہے


دوسرا منظر۔۔۔پس آئینہ

سنگسار کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لبرل مافیا سڑکوں پر نکل آیا ہے،چیخ چیخ کر سنگسار کرنے کو ظلم،اور سفاکیت سے تعبیر کیا جا رہا ہے، ہر طرف شور و غوغا ہے غیر انسانی سزا کہہ کر اسلامی سزاؤں کی مخالفت کی جا رہی ہے۔۔ظلم،سفاکیت،بربریت،غیر انسانی، جیسی آوازیں گونج رہی ہیں۔۔۔


تیسرا منظر۔۔۔پس آئینہ

عدالت لگی ہوئی ہے سیاسی احتساب چل رہے ہیں،نیب ایکٹو ہے سیاست دانوں کی رسہ کشی عروج پر ہے،انصاف کے دعوے دار تخت پر براجمان ہیں عوام حکومتی ترجیحات میں سے انصاف کا نمبر ڈھونڈ رہی ہے،مظلوم کی چیخیں ایوانوں کی دیواروں سے سر پٹخ رہی ہیں، لیکن یہ انصاف کی دہائیاں اندر موجود سیاسی ابحاث میں دب کر رہ گئی ہیں


چوتھا منظر۔۔۔آئینہ

بچی اکیلی ہے گھر پر۔۔۔

چاچو : زینب دروازہ بند کرو چلو ڈیرے چلتے ہیں 

زینب : کیوں چاچو ۔۔؟ بیٹا کام ہے۔۔ اچھا کہتے ہوئے زینب دوپٹہ لے کر چچا کے ساتھ سائیکل پر بیٹھ کر کھیتوں کے درمیان موجود ڈیرے پر چلی گئی۔۔کھیتوں کے درمیان تھوڑی سی چار دیواری کے درمیان ایک کمرہ بنا ہوا ۔۔چچا نے کمرے میں جا کر دروزہ بند کر لیا اور زینب کو بلا کر گود میں بٹھا لیا۔۔!!

زینب: چاچو کیا کر رہے ہیں چھوڑیں

او بیٹا کچھ نیئں ہوتا بڑا مزہ آئے گا۔۔

زینب چاچو چھوڑیں میں ابو کو بتا دوں گی۔۔

چاچو آج تو تیرا باپ بھی آ جائے تو میں نہ چھوڑوں یہ کہتے ہوئے ایک زور دار تھپڑ زینب کے منہ پر،پھر دوسرا تھپڑ اور چارپائی پر گرا کر کپڑے اتارنے کی کوشش کرنے لگا۔۔مزاحمت پر ایک اور تھپڑ لگایا اور زبردستی کپڑے پھاڑ دیے۔۔اگلے دس منٹ میں سدرہ اپنے قابل اعتماد چاچو کے ہاتھوں مکمل طور پر لٹ چکی تھی۔۔چارپائی پر خون بکھرا پڑا تھا زینب بے سدھ سی پڑی تھی اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے جیسے ہی ہوش آئی زینب نے اٹھ کر بھاگنے اور شور مچانے کی کوشش کی۔۔چاچو نے پکڑ کر کہا چپ چپ آواز نہ نکالنا اور کسی کو بتایا تو مار دوں گا۔۔زینب کی حالت بہت خراب تھی اچانک سے چاچو کے دل میں خوف آیا کہ کہیں پکڑا نہ جاوں۔۔اگلے ہی لمحے اس نے زینب کو دھکا دیا اور اوپر چڑھ کر گلا دبانا شروع کر دیا چند ہی لمحوں میں زینب کا جسم تڑپ تڑپ کر ٹھنڈا پڑنے لگا جھٹکے کھاتے کھاتے اچانک بے سدھ ہو گئی چاچا اٹھا اور باہر نکل کر دیکھا دور دور تک کوئی نہ تھا۔۔لاش ٹھکانے لگانے کا سوچنے لگا ہاتھ پاوں پھولے ہوئے تھے جلدی سے بیلچا اٹھایا اور کھیتوں سے کھدائی کرنے لگا لاش دبانے کے لیے گھبراہٹ۔۔پریشانی اور تھکاوٹ کی وجہ سے گڑھا زیادہ نہیں بنا سکا تو اندر آ گیا اور سدرہ پر نظریں جما لیں۔۔پھر اچانک کمرے کے کونے میں پڑے ٹوکے پر نظر پڑی تو اسے اٹھایا کہ ٹکڑے کر کے دبا دو۔۔جیسے ہی پہلا وار ٹانگ پر کیا ایک چیخ مار کے زینب نے آنکھیں کھول دی۔۔(گلے پر دباؤ پڑھنے سے بے ہوش ہوئی تھی جسے اس کے چچا نے مردہ سمجھ لیا)۔۔جیسے ہی وہ چیخی چچا مزید گھبرا گیا اور منہ پر ہاتھ رکھ کر چپ کروانے کی کوشش کرنے لگا کامیاب نہ ہونے پر بوکھلا کر اندھا دھند ٹوکے کے وار کرنے لگا پہلا ٹوکا ماتھے پر لگا پھر منہ پر جو دانتوں کو توڑتا ہوا حلق تک گھس گیا گرگراہٹ کی آواز آئی اور زینب مچھلی کی طرح تڑپنے لگی دور سے ٹریکٹر کی آواز آئی اور چاچا مزید بوکھلا گیا جلدی جلدی سے وار کرنے لگا ٹوکے مار مار کے بازو اتارا پھر دوسرا بازو۔۔ ٹانگیں کاٹی نہ جا رہیں تھیں تو الٹا کر کے لاش کی کمر پر پاوں رکھ کر ٹانگیں جھٹکے سے الٹی موڑ دی اور کمر توڑ کر فولڈ کر دیا پھر جلدی جلدی اندھا دھند وار کر کے گردن اتار دی سامنے زینب کا مڑا ہوا جسم کٹے ہوئے بازو اور سر پڑھا تھا کمرے میں خون ہی خون تھا ہر طرف جلدی سے تھیلے میں ڈال کر گھسیٹ کر باہر لایا اور گڑھے میں پھینک کر اوپر مٹی ڈالنے لگا۔۔۔۔!!!


پانچواں منظر۔۔۔ آئینہ

ننھی سی جان کو اٹھا کر بیڈ پر پٹخ دیا گیا تھا،سرخ انکھوں والا وہ دیو نما درندہ تھا۔۔۔پھر گردن سے پکڑا حوا کو اور ہوا میں اٹھا لیا اور دانتوں سے چہرہ بھنبھوڑ نےl لگا اس کی مکروہ دانت نازک سے ہونٹوں اور رخساروں کو بھنبھوڑ رہے تھے اور پھر ایک جھٹکے سے حوا نچلا ہونٹ دانتوں میں بینچ کر کھینچ کر چہرے سے الگ کر دیا گیا۔۔خون کا فوارہ ابلا اور حوا کی دلخراش چیخ گونجی۔۔


معصوم حوا کے جسم پر دانتوں کے نشانات بڑھتے جا رہے تھے۔۔

پاس ہی ایک چھری اور ایک بگدا پڑا تھا۔۔

قمیض کو پھاڑ کر اتار دیا گیا ننھی حوا کا اوپری دھڑ ننگا ہو چکا تھا ۔۔خنزیر النسل ادھ بنی چھاتی پر ٹوٹ پڑا تھا۔۔دانتوں سے بھنبھوڑ کر کاٹنے کی کوشش کی گئی مگر الگ نہ ہو سکا تو چھری اٹھائی اور ایک چھاتی کو پکڑ کر چھری سے الگ کر دیا گیا۔۔۔قیامت خیز منظر تھا بچی کی چیخیں روح فرسا تھی ساؤنڈ لگے ہوئے تھے۔۔۔


بچی دوبارہ بے ہوش ہو چکی تھی بیڈ خون سے لال ہو چکا تھا۔۔اس وحشی نے چادر اٹھا کر کیمرے کے سامنے کی اور اپنے منہ پر جسم پر مل لی سارا خون اس کے جسم پر لگ چکا تھا۔۔


پھر سے بچی کو اٹھا کر بیڈ پر پٹخا گیا اور ایک ہاتھ سے کھینچ کر اس کے جسم پر بچا ہوا آخری کپڑا بھی اتار دیا گیا بچی مادر زاد برہنہ حالت میں بیڈ پر ادھ موئی حالت میں پڑی تھی،سپیکر پر پھر احکامات آئے اور اگلے ہی لمحے ایک اور درندہ اندر داخل ہوا بچی کی دونوں ٹانگیں پکڑ کر مخالف سمت میں کھینچ کر پوری طاقت سے موڑ دی گئیں۔۔ کڑک کی آواز آئی بچی چنگھاڑتے ہوے ہوش میں آئی دونوں ٹانگیں سائیڈو پر کھل کر مڑ چکی تھیں کولہے کے جوڑ ٹوٹ چکے تھے دونوں ٹانگیں بے جان ہو کر ترڑی مرڑی حالت میں سائیڈوں پر پڑی تھیں۔۔اگلا منظر لکھے جانے کے قابل نہیں تھا۔۔۔کہ 8 سالہ کمسن بچی کے ساتھ شیطانی کھیل شروع ہو چکا تھا۔۔8 سال کی بچی کے اوپر35 سالہ شیطان درندگی کا مظاہرہ کر رہا تھا بچی کے منہ سے کف اڑ رہی تھی تھوک اور خون بہہ رہا تھا۔۔آنکھیں ابلی پڑی تھی


چند لمحوں بعد سپیکر سے آواز آئی اور بچی کو الٹا کر دیا گیا اور پھر سے جنسی درندگی کا کھیل شروع ہو گیا ریٹنگ نیچے آنے لگی تو ایک زور دار آواز آئی سپیکر سے اگلے ہی لمحے درندے کے ہاتھ میں چھری تھی جسے وہ بچی کی کمر پر کٹ لگانے لگا۔۔ سپیکر سے مکروہ آواز آئی کڑکڑاہٹ سنائی جائے۔۔ بچی کے بازو کو بیڈ کے کونے پر رکھ کر الٹا بگدا مارا گیا زور سے کٹک کی آواز کے ساتھ بازہ ٹوٹ کر نیچے جھولنے لگا۔۔۔ شیطانی کھیل جاری تھا کمرے میں لگے سپیکر سے ہدایات ملیں اور ایک کانچ کی بوتل اندر پھینکی گئی۔۔۔بوتل بچی کے سر پر مار کر توڑ دی گئی اور ساری شراب بچی کے خون میں لت پت کٹے پھٹے تڑے مڑے مردہ جسم پر پھیل گئی۔۔۔۔!!!


بطور انسان آئینے کے سامنے بیٹھے لکھتے ہوئے میرے قلم سے لہو ٹپک رہا ہے آگے لکھنے سے انکاری ہے۔۔گلے میں آنسو کا پھندہ بن چکا ہے۔۔ ماسٹر فہیم کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ بڑھ چکی ہے کہ لکھنا ممکن نہیں۔۔آئینے کا عکس ذہن سے محو نہیں ہو رہا دماغ پھوڑے کی طرح دکھ رہا اس پر ہتھوڑے کی طرح برستی وہ آوازیں۔۔کتنی ظالمانہ سزائیں ہیں اسلام میں۔۔کتنی سفاکیت ہے اسلام میں۔۔ کیا ہوا جو جرم کر لیا مگر کسی انسان۔۔۔ آہ۔۔میرے لیے آئینہ دیکھ لینے کے بعد انسان لکھنا ممکن نہیں رہا۔۔۔آہ کتنا ظلم ہے نا حیوان سے۔۔ حیوان۔۔؟ نہ۔۔!! حیوان توکتنے معصوم ہیں کیسے لکھ دوں آئینہ دیکھ لینے کے بعد۔۔۔ہاں شیطان۔۔!! لیکن کیا۔۔شیطان یہ سب۔۔کیا آئینے کی کارگزاری شیطانیت تھی۔۔نہیں شاید شیطان بھی یہاں منہ چھپا جائے۔۔شیطانیت کی تکمیل تو پس آئینہ وہیں نظر آ گئی تھی جہاں سنگسار اور رجم کو غیر انسانی کہہ کہہ کر، سزائے موت کو سفاکیت کہہ کہہ کر ان خنزیر النسل شیطانی درندوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔۔۔!!

میں کیا لکھوں۔۔۔کیسے لکھوں۔۔۔

جب تک یہ آئینہ سامنے ہے میں لکھ نہیں سکتا چلو آئینہ ہٹاؤ مجھے اس لبرل مافیا کے ساتھ کھڑے ہو کر کہنے دو کتنا ظلم ہے آہ۔۔۔ انسان کے ساتھ کتنا ظلم ہے سنگسار کر دینا اففف بہت ظالم سزائیں ہیں۔۔ہاں یہ سفاکیت ہے ہم انسانوں پر۔۔پس آئینہ ہم انسانوں پر ظلم ہے موت کی یہ سزا۔۔۔

آئینہ سامنے نہ کیجئے گا۔۔کہ ماسٹر فہیم کو جہنم سے وہ الفاظ مستعار نہیں ملے ابھی جو آئینے کے عکس کی کراہیت بیان کر سکیں۔۔۔!

چلو آئینہ ہٹاؤ کہ میرے دماغ پر پڑتے یہ ہتھوڑے میری نیند میں خلل ڈال رہے ہیں،مجھے قاضی وقت کی طرح سونا ہے،مجھے حاکم وقت کی طرح لب سینے ہیں۔۔!!

تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز

#ماسٹرمحمدفہیم

11،اکتوبر،2020

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

صفحات

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
 
فوٹر کھولیں