تازہ ترین
لوڈ ہو رہا ہے۔۔۔۔
جمعرات، 16 جنوری، 2020

اخے فوج نے کرنل انعام الرحیم کو لاپتہ کردیا۔ ماسٹر محمد فہیم امتیاز



پاک فوج نے ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم کو لا پتہ کر دیا۔!
یہ بات پراپوگیٹ کی جا رہی ہے پی ٹی ایم اور چند اینٹی اسٹیبلشمنٹ عناصر کی طرف سے

حالانکہ کرنل انعام الرحیم سرکاری حراست میں ہیں معروف صحافی صدیق جان کے مطابق ان کا کیس باقاعدہ طور پر عدالت میں چل رہا،جسے ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا کرنل انعام الرحیم کو رہا کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا۔۔۔میرا سوال یہ ہے کیا لاپتہ ہونا اسی کو کہتے ہیں۔۔؟؟
حکومتی/اداراتی حراست میں موجود شخص جس کی باقاعدہ سماعت سپریم کورٹ میں ہو رہی ہو کیا وہ مسنگ پرسن کہلائے گا۔۔؟؟

یاد رہے۔ یہ سماعت فوجی عدالت میں نہیں سپریم کورٹ میں ہوئی جس میں اٹارنی جنرل نے یہ انکشاف کیا کہ کرنل رحیم پکڑے جانے والے ایک جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں،جن کے لیپ ٹاپ سے پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حساس ترین، خفیہ ترین معلومات ملیں مزید پاکستانی خفیہ ایجنسی کے حوالے سے حساس اور خفیہ معلومات بھی موجود جو کہ کسی بھی صورت نہیں ہونی چاہئیں تھیں اور ان معلومات میں سے کچھ بیرون ملک بھی بھیجی گئی ہیں اس دعوے کو مضبوط کرتا یہ بیان ہے کہ پکڑے جانے والے جاسوسی گروہ کے ایک کارندے کو پھانسی کی سزا بھی سنا دی گئی ہے! سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرنل انعام الرحیم کی رہائی کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے مبینہ کیس میں 14 سال قید یا سزائے موت تک ہو سکتی ہے، اس سزا سے اور  کیس کی ماہیت سے آپ کوئی بھی ذی شعور معاملے کی سنگینی کا اندازہ بخوبی لگا سکتا ہے۔ لیکن پی ٹی ایم یا پراپیگنڈہ مافیا آپکو معاملے کا یہ رخ کبھی نہیں دکھائے گا اور ان کی نیت میں کھوٹ کی نشاندہی کرنے کے لیے یہی بات کافی ہے۔

یہ یاد رہے کہ انعام الرحیم ایک ایڈووکیٹ ہے اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ، پاکستان بار کونسل سمیت تمام تر عدلیہ ہمیشہ کی طرح اپنے بھائی بندوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جو عدالتیں خون ریز ہنگامے کے بعد اپنے وکلاء کو صلح صفائی میں نمٹا دیتیں،6  لوگوں کے قتل پر بھی اپنے وکلاء کی ضمانتیں دے دیتیں ۔ اسی عدالت نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے رہائی کا فیصلہ معطل کر دیا ہے، پھر سے یادہانی کروا دوں یہ فیصلہ سپریم کورٹ کا ہے کسی فوجی عدالت کا نہیں لیکن آپکے سامنے یہ رونا دھونا ڈالا جائے گا کہ اوہ ہو ہو فوج نے بندہ لاپتہ کر دیا، فوج نے یہ کر دیا وہ کر دیا، اب جو بندہ اس بات کو لے کر اچھلتا نظر آئے اس کے منہ پر یہ پوسٹ یا ڈائریکٹ صدیق جان کی رپورٹ مار دی جائے۔ میرا مقصد اس تحریر میں فوج کی وکالت نہیں بلکہ آپکے سامنے دوسرا رخ رکھنا ہے۔ جو فوج سے بغض رکھنے والا طبقہ کسی صورت آپکو نہیں دکھائے گا، باقی فیصلہ جو بھی درست ہوگا ہم اسی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

صفحات

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
 
فوٹر کھولیں